ساہیوال: ’زیادتی کے مرتکب‘ پیش امام کی شلوار میں پستول چل گیا

ساہیوال (نیوز رپورٹر) انسانیت سوز واقعے میں ملوث ایک ایسا ملزم قانون کے شکنجے میں آگیا جس نے نہ صرف ایک سات سالہ بچی کی زندگی برباد کی بلکہ اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اخلاقیات کی دھجیاں بھی اڑائیں۔ ضلع ساہیوال میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے ایک مبینہ پولیس مقابلے کے بعد اس وحشی صفت امام مسجد کو گرفتار کر لیا، جو اپنی ہی گولی کا نشانہ بن کر اپنے مخصوص عضو سے محروم ہو گیا۔

واقعے کا پس منظر

رپورٹس کے مطابق، 9 مارچ کو ضلع لیہ کے علاقے چوبارہ میں ایک مقامی امام مسجد مجاہد اقبال نے اپنی ہی سات سالہ طالبہ حفصہ بی بی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ملزم نے اس گھناؤنے فعل کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی جو بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ واقعے کے بعد تھانہ چوبارہ میں ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، تاہم وہ گرفتاری کے ڈر سے روپوش ہو گیا تھا۔

ایف آئی آر

گرفتاری اور ڈرامائی موڑ

لیہ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور جی پی ایس (GPS) سگنلز کی مدد سے ملزم کا تعاقب جاری رکھا۔ لوکیشن ٹریس ہونے پر معلوم ہوا کہ ملزم ساہیوال کے علاقے چک R-4/70 کے قریب ایک آم کے باغ میں چھپا ہوا ہے۔ سی سی ڈی ساہیوال نے اطلاع ملتے ہی علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

پولیس کے مطابق، جب اہلکاروں نے باغ پر چھاپہ مارا تو ملزم نے فرار ہونے کی کوشش میں اپنا پستول نکالنا چاہا، لیکن اسی دوران پستول اچانک اس کی شلوار کے اندر ہی چل گیا۔ گولی لگنے کے نتیجے میں ملزم کے نازک اعضاء شدید زخمی ہو گئے۔

قانونی کارروائی

زخمی ملزم کو فوری طور پر ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔ پولیس نے ملزم کے خلاف تعزیراتِ پاکستان (PPC) اور آرمز آرڈیننس کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ انسپکٹر وقاص کی مدعیت میں درج ہونے والے اس کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

عوامی حلقوں نے اس واقعے کو ‘فوری انصاف’ اور ‘مکافاتِ عمل’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم بچوں کے مستقبل سے کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔