ساہیوال: مختلف علاقوں سے گونگی بہری اور گھریلو ملازمہ سمیت 6 لڑکیاں اغوا

ساہیوال (رپورٹ: نامہ نگار)

ساہیوال میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال تشویشناک حد تک خراب ہو گئی۔ تھانہ فتح شیر، تھانہ غلہ منڈی، تھانہ فرید ٹاؤن، تھانہ یوسف والا اور تھانہ ہڑپہ کے علاقوں سے ایک گونگی بہری لڑکی اور دو گھریلو ملازمہ سمیت 6 لڑکیوں کو زبردستی اغوا کر لیا گیا۔

ملزمان اغوا کی وارداتوں کے دوران گھر سے 12 لاکھ روپے مالیت کے طلائی زیورات اور نقدی بھی سمیٹ کر فرار ہو گئے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 6 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، تاہم مغویہ لڑکیاں ابھی تک برآمد نہیں ہو سکیں۔

تفصیلات کے مطابق اغوا کی پہلی واردات طارق بن زیاد کالونی میں پیش آئی، جہاں چک 80/5-L کے رہائشی کی 17 سالہ بیٹی ث (جو گھروں میں کام کرتی ہے) کو ملزمان وحید، زین اور نسیم بی بی نے زبردستی کار میں ڈال کر اغوا کر لیا۔

دوسرا واقعہ گرین ٹاؤن میں ہوا، جہاں زینب بی بی (سکنہ 111/9-L) کی 17 سالہ گھریلو ملازمہ بیٹی (ر) کو فیصل بلوچ نامی ملزم زبردستی رکشے میں ڈال کر لے گیا۔

تیسری واردات فرید ٹاؤن کے آئی بلاک میں ہوئی، جہاں 17 سالہ گونگی اور بہری لڑکی (ف) کو ملزم برکت علی، حسنین علی اور ان کے دو نامعلوم ساتھیوں نے زبردستی کار میں ڈالا اور اغوا کر کے لے گئے۔

مزید تین اغوا کی وارداتیں اور لاکھوں کی ڈکیتی

چک 53/5-L: ایک عورت کی 17 سالہ بیٹی (ع) کو ملزمان محمد آصف، محمد ارشد، شکیل اور دو نامعلوم افراد نے کار میں اغوا کیا۔
چک 190/9-AL: (س) کو نامعلوم ملزمان نے اغوا کر لیا۔

اراضی 86: زمیندار کی بھتیجی (ف) کو ملزمان محمد بابر، وقاص اور اشتیاق زبردستی گھسیٹ کر اغوا کر کے لے گئے۔ ملزمان جاتے ہوئے گھر سے 2 لاکھ روپے نقد اور 10 لاکھ روپے مالیت کے طلائی زیورات بھی زبردستی لوٹ کر فرار ہو گئے۔

پولیس کی کارروائی اور مقدمات کا اندراج

واقعات کی اطلاع ملتے ہی ساہیوال پولیس متحرک ہو گئی۔ تھانہ فتح شیر، غلہ منڈی، فرید ٹاؤن، یوسف والا اور ہڑپہ کی پولیس نے متاثرہ خاندانوں کی مدعیت میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 365-B کے تحت 6 علیحدہ مقدمات درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

پولیس ذرائع کا مؤقف:

"پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مختلف چھاپوں میں 6 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ تاہم، ابھی تک کوئی بھی مغویہ لڑکی برآمد نہیں ہو سکی۔ لڑکیوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور جلد ہی تمام مغویات کو بازیاب کروا لیا جائے گا۔”