کمشنر ساہیوال کا تعلیمی بورڈ کا دورہ، طلبہ کی سہولت کے لیے بینک بوتھ کا افتتاح

​ساہیوال (خصوصی رپورٹر)

تمام برانڈز کے لان سوٹ ڈسکاؤنٹ پر حاصل کریں۔

Butt Cloth House Sahiwal

کمشنر ساہیوال ڈویژن ڈاکٹر آصف طفیل نے ساہیوال بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (BISE) میں نئے قائم کردہ بینک بوتھ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ اس اقدام کا مقصد بورڈ آنے والے طلبہ و طالبات کو فیسوں کی ادائیگی میں حائل مشکلات کا خاتمہ اور جدید سہولیات کی فراہمی ہے۔

​افتتاحی تقریب میں ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ اینڈ فنانس شفیق احمد ڈوگر، سیکرٹری بورڈ غلام حسین بھٹی اور کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر رانا نوید عظمت نے خصوصی شرکت کی۔
​جدید اور آسان سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے: کمشنر ساہیوال

​بینک بوتھ کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا اور افسران سے گفتگو کرتے ہوئے کمشنر ڈاکٹر آصف طفیل نے کہا:

​”تعلیمی بورڈ میں بینک بوتھ کے قیام سے طلبہ و طالبات اور ان کے والدین کو فیسوں کی ادائیگی کے لیے اب دور نہیں جانا پڑے گا اور انہیں بورڈ کی حدود میں ہی آسانی میسر آئے گی۔ طلبہ کو جدید، تیز رفتار اور آسان سہولیات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔”

​انہوں نے بینک انتظامیہ اور متعلقہ حکام کو سخت ہدایت کی کہ بینک بوتھ پر تعینات عملہ بورڈ آنے والے طلبہ و طالبات اور سائلین سے خوش اخلاقی سے پیش آئے اور ان کے معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔

​ون ونڈو آپریشن سیل اور فسیلیٹیشن سینٹر کا تفصیلی جائزہ

​افتتاح کے بعد کمشنر ڈاکٹر آصف طفیل نے بورڈ آفس کے اندر قائم ون ونڈو آپریشن سیل اور فسیلیٹیشن سینٹر کا بھی تفصیلی دورہ کیا اور وہاں طلبہ کو دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔

​حکام کی بریفنگ: دورے کے دوران کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر رانا نوید عظمت نے کمشنر کو طلبہ و طالبات کو فراہم کی جانے والی مختلف آن لائن اور دستی سہولیات، سرٹیفکیٹس کے حصول اور دیگر دفتری امور کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

​مسائل کے فوری حل کی ہدایت: کمشنر ساہیوال نے بریفنگ سننے کے بعد موقع پر موجود افسران کو احکامات جاری کیے کہ طلبہ کو درپیش مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ انہیں اپنے جائز کاموں کے لیے بار بار دفاتر کے چکر نہ لگانا پڑیں۔

​اوقات کار کی پابندی: انہوں نے مزید تاکید کی کہ بورڈ آفس میں قائم بینک بوتھ اور دیگر تمام فسیلیٹیشن کاؤنٹرز کو مقررہ دفتری اوقات میں مکمل طور پر فعال رکھا جائے تاکہ دور دراز سے آنے والے طلبہ کا وقت ضائع نہ ہو۔