ساہیوال: دو دوستوں کی 14 سالہ طالب علم سے اجتماعی زیادتی، ویڈیو بنا لی، ملزمان گرفتار

ساہیوال (نمائندہ خصوصی) ساہیوال کے علاقہ پرانی لکڑ منڈی میں افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں دو نوجوانوں نے اپنے ہی 14 سالہ دوست کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا اور نازیبا ویڈیو بنا کر اسے نیم بے ہوشی کی حالت میں گھر کے باہر پھینک کر فرار ہو گئے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دونوں نامزد ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
واقعہ کی تفصیلات
متاثرہ لڑکے منیب الرحمٰن کی والدہ خدیجہ نیاز کی جانب سے درج کرائی گئی رپورٹ کے مطابق:
3 مئی کی رات تقریباً 9 بجے، منیب کے دو دوست محمد عثمان قریشی اور حامد علی حامی اسے سنوکر کھیلنے کے بہانے گھر سے بلا کر ساتھ لے گئے۔
جب رات ایک بجے تک بچہ گھر واپس نہ پہنچا تو والدین نے تشویش کے عالم میں اس کی تلاش شروع کی۔
ملزمان نے طالب علم کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور اس دوران اس کی برہنہ ویڈیو بھی ریکارڈ کی۔ بعد ازاں، اسے تشویشناک حالت میں اس کے گھر کے گیٹ پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
طبی معائنہ اور انکشافات
ورثاء نے فوری طور پر منیب کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا۔ طبی معائنے کے دوران بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصدیق ہوئی۔ ہوش میں آنے پر متاثرہ طالب علم نے بتایا کہ دونوں ملزمان نے اسے باری باری اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزاحمت پر تشدد بھی کیا۔
پولیس کی کارروائی
تھانہ فتح شیر پولیس نے ابتدائی طور پر خاموشی اختیار کیے رکھی، تاہم واقعے کے چھ روز بعد عوامی دباؤ اور قانونی کارروائی کے نتیجے میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔
درج دفعات: ملزمان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 376 (اجتماعی زیادتی) اور 292 (فحش مواد کی تیاری) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
گرفتاری: ایس ایچ او تھانہ فتح شیر کے مطابق پولیس نے فوری چھاپہ مار کر دونوں نامزد ملزمان، عثمان قریشی اور حامد علی کو گرفتار کر لیا ہے اور ان سے مزید تفتیش جاری ہے۔
علاقہ مکینوں نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے ملزمان کو عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔