ساہیوال: والدین کے درمیان جھگڑے کا المناک انجام، صندوق سے لاشیں ملنے کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

​ساہیوال (ساہیوال نیوز ڈاٹ کام) ساہیوال کے نواحی گاؤں بشیرہ میں گزشتہ روز دلخراش واقعہ پیش آیا جہاں دو کمسن سگے بھائی گھر میں موجود آٹے کے صندوق سے مردہ حالت میں پائے گئے۔ پولیس نے بچوں کی ماں کو حراست میں لے رکھا ہے، تاہم موت کی اصل وجہ تاحال معمہ بنی ہوئی ہے۔

​واقعے کا پس منظر

​تفصیلات کے مطابق گاؤں بشیرہ کے رہائشی محنت کش محمد سرور اور اس کی اہلیہ معافیہ کے درمیان اکثر لڑائی جھگڑا رہتا تھا۔ گزشتہ شام بھی میاں بیوی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جسے دیکھ کر دونوں معصوم بچے، 6 سالہ علی حسن اور 8 سالہ علی حیدر مبینہ طور پر ڈر کر چھپ گئے۔

​تلاش اور لرزہ خیز انکشاف

​رات گئے تک جب بچے نہ ملے تو پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس نے گھر کی تلاشی لی تو آٹے کے ایک بڑے صندوق سے دونوں بھائیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ پولیس نے فوری طور پر لاشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کیا۔

​پولیس کارروائی: ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں، جبکہ تھانہ بہادر شاہ کی پولیس نے پانچ بچوں کی ماں، معافیہ کو شک کی بنیاد پر حراست میں لے رکھا ہے۔

​قانونی صورتحال اور تحقیقات

​بچوں کی موت کا معمہ تاحال حل نہیں ہو سکا، جس کے باعث پولیس نے فی الوقت اسے اتفاقی حادثہ قرار دیتے ہوئے 174 ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی شروع کر دی ہے۔

​لیبارٹری رپورٹ کا انتظار: پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں بچوں کے پوسٹ مارٹم کے نمونے لاہور لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔

مقدمے کا اندراج: لاہور سے فائنل رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ کا تعین ہوگا اور اسی کی روشنی میں اگر ضرورت پڑی تو مقدمے کے اندراج کا فیصلہ کیا جائے گا۔

​اس افسوسناک واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے اور والدین کے درمیان ہونے والے جھگڑوں کے بچوں پر پڑنے والے منفی اثرات کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

دوسری جانب واقعے کی حساسیت کے پیش نظر ڈی پی او ساہیوال محمد عثمان ٹیپو خود تھانہ میں موجود رہے اور ہلاک ہونے والے بچوں کی والدہ سے خود انکوائری کی۔ اس موقع پر ایس ڈی پی او صدر سرکل مظہر حسین، ایس ایچ او تھانہ بہادر شاہ اور ایس ایچ او تھانہ نور شاہ بھی موقع پر موجود رہے۔

ڈی پی او ساہیوال

وفات پانے والے بچوں کے اہلخانہ کا دکھ اپنی جگہ لیکن واقعے کی شفاف تحقیقات بھی انتہائی ضروری تھیں۔ شہریوں نے پولیس کے ذمہ دارانہ طرز عمل اور فرائض کی ادائیگی کو سراہا ہے۔