چیچہ وطنی: معمولی تلخ کلامی پر فائرنگ، مسجد سے باہر نکلنے والے شخص کو قتل کر دیا گیا

چیچہ وطنی (رپورٹ: نمائندہ خصوصی)
تھانہ صدر چیچہ وطنی کے علاقے چک 36 بارہ ایل میں دیرینہ دشمنی اور معمولی تلخ کلامی کے نتیجے میں فائرنگ کا ہولناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں مسجد سے نماز ادا کر کے نکلنے والے شہری کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ساہیوال محمد عثمان ٹیپو نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ملزم کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے۔ پولیس نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو آلہ قتل سمیت حراست میں لے لیا ہے۔
واقعے کی تفصیلات اور پس منظر
پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق مقتول ظفر اقبال (قوم راجپوت) اور ملزم خبیب ولد عبد المجید، دونوں ایک ہی گاؤں 36 بارہ ایل کے رہائشی تھے۔ چند روز قبل دونوں کے درمیان کسی بات پر شدید تلخ کلامی ہوئی تھی، جس کی رنجش ملزم نے دل میں پال رکھی تھی۔
آج جب ظفر اقبال مسجد سے نماز ادا کرنے کے بعد باہر نکلا، تو وہاں پہلے سے گھات لگائے بیٹھے 22 سالہ ملزم خبیب نے اس پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ظفر اقبال شدید زخمی ہو گیا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
پولیس کی فوری کارروائی اور ملزم کی گرفتاری
واقعے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ صدر چیچہ وطنی کی پولیس نفری موقع پر پہنچی۔ ڈی پی او ساہیوال کی سخت ہدایات پر عمل کرتے ہوئے پولیس نے فوری ناکہ بندی کی اور روپوش ہونے کی کوشش کرنے والے ملزم خبیب کو واردات میں استعمال ہونے والے آلہ قتل (اسلحہ) سمیت گرفتار کر لیا۔ پولیس نے مقتول کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر کے مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
فرقہ وارانہ رنگ دینے کی تردید
ترجمان ساہیوال پولیس نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ:
”اس افسوسناک واقعے کا کسی بھی قسم کے مذہبی، فقہی یا مسلکی تنازعے (بشمول اہل تشیع یا اہل حدیث) سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مقتول اور ملزم دونوں فریقین کا تعلق ایک ہی فقہ (دیوبند) سے ہے اور یہ واردات خالصتاً چند روز قبل ہونے والی ذاتی تلخ کلامی اور عناد کا شاخسانہ ہے۔”
پولیس حکام نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کے حوالے سے کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں، ملزم قانون کی گرفت میں ہے اور اسے سخت سے سخت سزا دلائی جائے گی۔