پاکپتن: سگے بھائیوں نے جائیداد کے تنازعے پر چھوٹے بھائی کو قتل کر دیا

پاکپتن (ساہیوال نیوز – محمد انعام) تحصیل پاکپتن کے علاقے اَرزئی جھجّل بھاگ میں سگے بھائیوں نے ایک ساتھی کی مدد سے دیرینہ خاندانی زرعی زمین کے تنازع پر اپنے کم عمر بھائی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔

اطلاعات کے مطابق مقتول ظفر حسین نے حال ہی میں وزیرِ اعلیٰ کے پورٹل پر اپنی آبائی زمین پر مبینہ غیرقانونی قبضے کے خلاف آن لائن شکایت درج کرائی تھی۔ وزیراعلی کے پورٹل پر مقتول کی داد رسی نہ ہوئی اور اسے متعلقہ محکمے میں درخواست دینے کا مشورہ دیا گیا.

مقتول ظفر حسین نے آن لائن شکایت درج کرائی جس پر مبینہ طور پر اس کے بھائی مشتعل ہو گئے۔ یہ تنازع ان کے والد اللہ یار کی وفات کے بعد گزشتہ چار برس سے جاری تھا۔

مدعی ظفر کا الزام تھا کہ اس کے بھائیوں الطاف، نصراللہ اور ثناءاللہ نے اس کے حصے کی زمین پر قبضہ کر کے اسے مقامی ٹھیکیدار سردار کو ٹھیکے پر دے دیا تھا۔ ظفراللہ نے پہلے پنچایت کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی، تاہم تنازع حل نہ ہو سکا۔

مقامی لوگوں کے مطابق تین ماہ قبل بھی بھائیوں نے سرِعام ظفراللہ پر تشدد کیا تھا، تاہم مقامی لوگوں نے اسے بچا لیا۔ بعد ازاں ظفر نے باضابطہ طور پر آن لائن شکایت درج کرائی۔ گزشتہ روز جب ظفر اپنی اہلیہ طاہرہ بی بی کے ہمراہ مقدمے کی پیروی کے بعد موٹر سائیک پر گھر واپس آ رہا تھا تو راستے میں اسے مسلح بھائیوں اور ٹھیکیدار سردار نے روک لیا۔

طاہرہ بی بی نے پولیس تھانہ صدر پاکپتن کو بتایا کہ تلخ کلامی کے بعد ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی۔ ظفراللہ کو پستول اور رائفلوں سے پیٹ، سینے اور ٹانگوں پر متعدد گولیاں لگیں اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ قتل کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے۔ تھانہ صدر پولیس نے موقع پر فرانزک کارروائی کی اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال پاکپتن منتقل کر دیا۔

مقتول ظفر حسین

تھانہ صدر پاکپتن نے طاہرہ بی بی کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ نمبر **2049/25** درج کر کے مرکزی ملزم الطاف کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ نصراللہ، ثناءاللہ اور ٹھیکیدار سردار تاحال مفرور ہیں۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جاوید چدھر نے ملزمان کی جلد گرفتاری کے لیے پولیس کو ہدایات جاری کر دی ہیں. دوسری جانب اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ کمزور قوانین، پیچیدہ اور سست عدالتی کاروائیوں کے نتیجے میں ایسے کیسوں میں غریب اور کمزور طبقے پس کر رہ گئے ہیں.