ساہیوال: دو نوجوان لڑکیوں اور ایک شادی شدہ خاتون کی مبینہ آبروریزی، مقدمات درج، تین ملزمان گرفتار

ضلع ساہیوال میں جنسی زیادتی کے تین مختلف واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جہاں دو نوجوان لڑکیوں اور ایک شادی شدہ خاتون کو ہوس کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس نے متاثرہ خواتین کی مدعیت میں مقدمات درج کر کے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

واقعہ نمبر 1: کزن نے دھوکے سے جھگی میں بلا کر زیادتی کر ڈالی

پہلا واقعہ جھال روڈ کچی آبادی میں پیش آیا جہاں خانہ بدوش خاندان سے تعلق رکھنے والی نوجوان لڑکی (ل) کو اس کے کزن محمد حسین شیخ نے دھوکے سے نشانہ بنایا۔
ملزم نے متاثرہ لڑکی کو دوائی لینے کے بہانے بلوایا اور اسے قریبی جھگی میں لے جا کر زبردستی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ پولیس نے مراتب علی کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔

واقعہ نمبر 2: لفٹ دینے کے بہانے مسافر لڑکی سے جنگل میں زیادتی

دوسرا واقعہ کوٹلہ سٹاپ چک 113 بارہ ایل چیچہ وطنی کے قریب پیش آیا۔ 20 سالہ (ر) رکشہ کے ذریعے اقبال نگر جا رہی تھی کہ راستے میں رکشہ خراب ہو گیا۔ لڑکی دوسرے رکشہ کے انتظار میں کھڑی تھی کہ موٹر سائیکل سوار محمد فیاض اور اس کا ساتھی وہاں پہنچے۔

ملزمان نے لڑکی کو لفٹ دینے کے بہانے موٹر سائیکل پر بٹھایا اور اسے قریبی جنگل میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا اور موقع سے فرار ہو گئے۔

واقعہ نمبر 3: اکیلی خاتون کے گھر میں گھس کر اسلحہ کے زور پر زیادتی

تیسرا واقعہ چک 115 نو ایل میں پیش آیا جہاں ایک شادی شدہ خاتون (م) اپنے گھر میں اکیلی تھی کیونکہ اس کا شوہر ریاض احمد ملازمت کے سلسلے میں شہر سے باہر گیا ہوا تھا۔

رات 12 بجے ملزم شہزاد سندھیلہ نے یہ کہہ کر دروازہ کھٹکھٹایا کہ "آپ کے جانور کھلے ہوئے ہیں، انہیں باندھ لو”۔ جیسے ہی خاتون نے دروازہ کھولا، ملزم اسلحہ کے زور پر گھر میں داخل ہو گیا اور اسے زیادتی کا نشانہ بنا کر فرار ہو گیا۔

پولیس کارروائی اور گرفتاریاں

ان واقعات کے بعد ساہیوال پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے مختلف تھانوں میں کارروائی کی۔ تھانہ سٹی ساہیوال، تھانہ صدر چیچہ وطنی اور تھانہ کمیر نے مراتب علی، نجمہ بی بی اور مقدس بی بی کی مدعیت میں دفعہ 376 ت پ کے تحت تین الگ الگ مقدمات درج کر لیے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اب تک کی کارروائی میں تین ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خواتین کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔