یونیورسٹی آف ساہیوال نے کرپشن اور ہراسانی پر سینئر پروفیسر کو ملازمت سے برطرف کر دیا، 1 کروڑ 70 لاکھ کی ریکوری کا حکم

ساہیوال: یونیورسٹی آف ساہیوال کی سینڈیکیٹ نے کرپشن، مالی بدعنوانی اور کام کی جگہ پر ہراساں کرنے کے سنگین الزامات ثابت ہونے پر شعبہ کمپیوٹر سائنس کے چیئرمین ڈاکٹر شفیق حسین کو ملازمت سے برطرف کرتے ہوئے ان پر بھاری جرمانے عائد کر دیے ہیں۔
انکوائری رپورٹ اور الزامات کی تفصیل
یونیورسٹی کی 15ویں سینڈیکیٹ میٹنگ کے دوران پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت ہونے والی دو مختلف انکوائریز کے نتائج سامنے لائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر شفیق حسین پر 2023 میں دو بڑے الزامات عائد کیے گئے تھے:
1. مالی بدعنوانی: لائبریری کتب کی خریداری میں 1 کروڑ 70 لاکھ روپے (17 ملین) کا غبن۔
2. ہراساں کرنا: کام کی جگہ پر ہراساں کرنے کے الزامات۔
سزاؤں کا اعلان
سینڈیکیٹ نے الزامات ثابت ہونے پر درج ذیل بڑی سزائیں سنائی ہیں:
ملازمت سے برطرفی: مالی خورد برد کے جرم میں ڈاکٹر شفیق کو فوری طور پر سروس سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
بھاری ریکوری: ان سے غبن شدہ 17 ملین روپے بمعہ مارک اپ اور سود وصول کیے جائیں گے۔ یہ رقم لینڈ ریونیو کے بقایاجات کے طور پر یا کسی بھی قانونی طریقے سے وصول کی جائے گی۔
تنزل: ہراساں کرنے کے الزام میں انہیں گریڈ 20 (ایسوسی ایٹ پروفیسر) سے تنزل کر کے گریڈ 19 (اسسٹنٹ پروفیسر) کر دیا گیا تھا اور 5 سال تک کسی بھی انتظامی عہدے پر کام کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
تنخواہ کی بندش: حکم نامے کے مطابق، 3 مارچ 2026 کے بعد وہ کسی بھی قسم کی تنخواہ یا الاؤنس کے حقدار نہیں ہوں گے۔
کیس کا پس منظر
یہ معاملہ 2023 میں اس وقت شروع ہوا جب ڈاکٹر شفیق پروجیکٹ ڈائریکٹر اور چیئرمین کمپیوٹر سائنس کے طور پر کام کر رہے تھے۔ انکوائری کمیٹی نے پایا کہ 17 ملین روپے کی کتابیں خریدی تو گئیں اور سٹاک میں درج بھی ہوئیں، لیکن وہ کبھی یونیورسٹی نہیں پہنچیں بلکہ سپلائر کو واپس کر دی گئیں۔
دورانِ تفتیش ڈاکٹر شفیق نے گورنر پنجاب/چانسلر سردار سلیم حیدر خان سے اپیل کر کے بحالی حاصل کی تھی، تاہم انکوائری جاری رہی۔ جنوری 2026 میں گورنر آفس کی ہدایت پر انکوائری 15 دن میں مکمل کی گئی۔
دفاع کا موقع ضائع کر دیا
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق، ڈاکٹر شفیق حسین کو 10 فروری 2026 کو سینڈیکیٹ کے سامنے ذاتی سماعت کا موقع دیا گیا تھا، لیکن وہ پیش نہیں ہوئے اور نہ ہی اپنی غیر حاضری کا کوئی قانونی جواز فراہم کیا۔ جس کے بعد سینڈیکیٹ نے ان کی عدم موجودگی میں ثبوتوں کی بنیاد پر حتمی فیصلہ سنا دیا۔