اوکاڑہ: خواتین کی خود مختاری کے لیے جرمن ماہر تعلیم کی خدمات کو خراج تحسین

اوکاڑہ (نامہ نگار): یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں جرمن آرٹسٹ اور ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر سینٹا سِلر (Senta Siller) کی خواتین کو بااختیار بنانے، صنفی مساوات اور خواتین میں انٹرپرینیورشپ (کاروباری مہارت) کے فروغ کے لیے انجام دی گئی خدمات کے اعتراف میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کا اہتمام ڈائریکٹوریٹ آف ایکسٹرنل لنکیجز اور ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز کے اشتراک سے کیا گیا۔

تقریب کے اہم خدوخال:

* مہمانانِ گرامی: وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین، جرمن ماہر تعلیم ڈاکٹر سینٹا سِلر اور ان کے شوہر پروفیسر ڈاکٹر نوربرٹ پِنٹش نے تقریب میں خصوصی شرکت کی۔

* خراجِ تحسین: وائس چانسلر ڈاکٹر سجاد مبین اور سول سوسائٹی کے اراکین نے ڈاکٹر سِلر کی خدمات کو سراہا۔ ڈاکٹر مبین نے اعلان کیا کہ یونیورسٹی میں زیرِ تعمیر گرلز ہاسٹل کو ڈاکٹر سینٹا سِلر کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔

* تھتہ غلامکا دھیروکا (Thatta Kedona): جرمن نشریاتی ادارے کے نمائندے امجد علی نے ڈاکٹر سِلر کے 1990 کی دہائی میں شروع کیے گئے پراجیکٹ "تھتہ کیڈونا” پر بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح اس منصوبے نے ہزاروں دیہاتی خواتین کو بااختیار بنایا اور علاقے کی سماجی و اقتصادی حالت کو بدل کر رکھ دیا۔

مقررین کا خطاب:

ڈاکٹر سینٹا سِلر نے اپنے کلیدی خطاب میں ان عوامل پر روشنی ڈالی جنہوں نے انہیں اس منصوبے میں اپنی توانائیاں صرف کرنے پر آمادہ کیا۔ ان کے شوہر ڈاکٹر پِنٹش نے ان کے اس طویل سفر کی داستان بیان کی۔ وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ تعلیم معاشرے کی سماجی اور اقتصادی ترقی کے لیے بہترین سرمایہ کاری ہے۔

تقریب میں فیکلٹی ممبران، طلبہ کی بڑی تعداد کے علاوہ سینئر شہری اسلم طاہر القادری اور چوہدری مقصود احمد جٹ نے بھی خطاب کیا۔ نظامت کے فرائض یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے پریس اینڈ میڈیا ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر شرجیل احمد نے سرانجام دیے۔