کمشنر ساہیوال کی زیر صدارت تعلیمی بورڈ کا اہم اجلاس، متعدد انتظامی فیصلوں کی منظوری

ساہیوال (نمائندہ خصوصی) کمشنر ساہیوال ڈویژن ڈاکٹر آصف طفیل کی زیر صدارت ساہیوال تعلیمی بورڈ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں بورڈ کے انتظامی امور، ملازمین کے کنٹریکٹ اور قانونی و مالی معاملات کے حوالے سے دور رس فیصلے کیے گئے۔

اہم تقرریاں اور توسیع

اجلاس میں انتظامی تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر جنرل غلام حسین بھٹی کو تعلیمی بورڈ کے سیکرٹری کے عہدے پر عارضی طور پر تعینات کرنے کی منظوری دی گئی۔ یہ تقرری مستقل سیکرٹری کی تعیناتی تک برقرار رہے گی۔ اس کے علاوہ، بورڈ کے سب انجینئر سید قاسم احمد گل کے کنٹریکٹ میں مزید ایک سال کی توسیع کی بھی منظوری دے دی گئی۔

تعلیمی و امتحانی فیصلے

اجلاس کے دوران طلبہ کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے دوسرے سالانہ امتحانات 2025 کے لیے اہم فیصلے کیے گئے:

میٹرک کے 41 طلبہ کے لیٹ ایڈمیشن کی منظوری۔
انٹرمیڈیٹ کے 26 طلبہ و طالبات کے لیٹ ایڈمیشن کی منظوری۔

قانونی اور مالیاتی معاملات

بورڈ کو درپیش مالیاتی چیلنجز پر بحث کرتے ہوئے دو بڑے فیصلے کیے گئے:

ٹیکس نوٹس: ایف بی آر کی جانب سے سوا تین کروڑ روپے کے ٹیکس نوٹس کی قانونی پیروی کے لیے لیگل ایڈوائزر مقرر کرنے کی منظوری دی گئی۔
بینکنگ محتسب سے رجوع: حبیب بینک کی جانب سے بورڈ فنڈز کی ادائیگی میں تاخیر کے باعث ہونے والے 88 لاکھ روپے کے نقصان پر سخت نوٹس لیتے ہوئے اسے بینکنگ محتسب میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

سروس رولز کے لیے کمیٹی کا قیام

بورڈ کے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے سیکرٹری بورڈ غلام حسین بھٹی کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی نئے سروس رولز کے حوالے سے تفصیلی سفارشات تیار کر کے بورڈ کو پیش کرے گی۔

شرکاء اجلاس: اجلاس میں سیکرٹری بورڈ غلام حسین بھٹی، کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر رانا نوید عظمت، وائس چانسلر یونیورسٹی آف ساہیوال پروفیسر ڈاکٹر جاوید اختر اور دیگر بورڈ ممبران نے شرکت کی۔