سانحہ ساہیوال کے 7 برس مکمل: ایک ایسا زخم جو آج بھی تازہ ہے!

ساہیوال: آج سانحہ ساہیوال کو گزرے سات برس بیت گئے ہیں، لیکن اس لرزہ خیز واقعے کی یادیں آج بھی قوم کے ضمیر پر ایک بوجھ ہیں اور متاثرہ خاندان کے دلوں میں انصاف کی تڑپ ختم نہیں ہو سکی۔
19 جنوری 2019 کو پیش آنے والا یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک ہنستے بستے خاندان کے لیے وہ ڈراؤنا خواب ثابت ہوا جس نے ریاست کے حفاظتی نظام پر کئی سوالات کھڑے کر دیے۔
وہ خونی دوپہر: جب خوشیاں ماتم میں بدل گئیں
19 جنوری 2019، بروز ہفتہ، محمد خلیل اپنی اہلیہ نبیلہ، تین بچوں اور پڑوسی ذیشان جاوید کے ہمراہ لاہور سے بورے والا ایک شادی میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ جیسے ہی ان کی گاڑی ساہیوال کے قریب قادر آباد پہنچی، سی ٹی ڈی (CTD) کے اہلکاروں نے گاڑی کو روک کر اندھادھند فائرنگ کر دی۔
اس بے رحمانہ کارروائی کے نتیجے میں موقع پر ہی درج ذیل افراد جاں بحق ہو گئے:
محمد خلیل (سربراہ خاندان)
نبیلہ (خلیل کی اہلیہ)
اریبہ (13 سالہ بیٹی)
ذیشان جاوید (ڈرائیور)
خوش قسمتی سے خلیل کے تین کمسن بچے— عمیر، منیبہ اور ہادیبہ— گولیوں کی بوچھاڑ میں محفوظ رہے، لیکن انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے والدین اور بہن کو لہولہان ہوتے دیکھا۔
تضادات اور عوامی ردعمل
واقعے کے فوراً بعد سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا کہ یہ ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن تھا اور گاڑی میں سوار افراد کا تعلق ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم سے تھا۔ تاہم، عینی شاہدین کے بیانات اور موبائل فوٹیجز نے ان دعوؤں کی قلعی کھول دی، جن میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا کہ متاثرین غیر مسلح تھے اور انہوں نے کوئی مزاحمت نہیں کی تھی۔
اس واقعے پر ملک بھر میں احتجاج کی لہر دوڑ گئی۔ اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے نوٹس لیا اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہوئے ملوث اہلکاروں کی گرفتاری کا حکم دیا۔
سات سالہ طویل جدوجہد: انصاف اب بھی ادھورا
قومی اور بین الاقوامی سطح پر غم و غصے کے باوجود، متاثرہ خاندان کو قانونی محاذ پر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ اکتوبر 2019 میں، انسداد دہشت گردی کی عدالت نے گواہوں کے بیانات سے منحرف ہونے اور "شک کا فائدہ” دیتے ہوئے سی ٹی ڈی کے تمام 6 اہلکاروں کو بری کر دیا۔
سات سال بعد بھی، سانحہ ساہیوال کے بچ جانے والے بچے اپنے والدین کے بغیر پرورش پا رہے ہیں۔ یہ سانحہ پاکستان میں پولیس اصلاحات کی فوری ضرورت کی ایک دردناک علامت بن چکا ہے۔
اختیارات میں اضافہ اور جوابدہی کا فقدان
آج سانحات سے سبق سیکھنے کی بجائے حکمران اقتدار کی ہوس میں ایسا ماحول بنا رہے ہیں جس میں سانس لینا بھی دشوار ہے. حالیہ برسوں میں انسداد دہشت گردی ایکٹ اور پیکا قوانین میں ہونے والی ترامیم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید وسیع اختیارات دے دیے ہیں، جن میں محض شک کی بنیاد پر 90 روز تک حراست میں رکھنے کا اختیار بھی شامل ہے۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ بغیر کسی احتسابی نظام کے ان اختیارات کا بڑھنا شہریوں کے بنیادی حقوق کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
آج جب قوم 2019 کے شہداء کو یاد کر رہی ہے، تو یہ مطالبہ پھر سے زور پکڑ رہا ہے کہ ریاست شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے تاکہ پھر کبھی کوئی "خلیل” یا "ذیشان” کسی ایسی بربریت کی بھینٹ نہ چڑھے۔