ساہیوال ٹیچنگ اسپتال میں غیر قانونی کینٹین مسمار

ساہیوال (ساہیوال نیوز – عمران ثاقب) اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے حکم پر ساہیوال ٹیچنگ اسپتال کے احاطے میں قائم ایک غیر مجاز کینٹین کو مسمار کر دیا گیا۔
یہ کینٹین مریضوں کے لواحقین کے لیے قائم مسافر خانے کے سامنے معاہدے کی شرائط سے ہٹ کر تعمیر کی گئی تھی۔
تفصیلا ت کے مطابق محکمے کے ایڈیشنل سیکرٹری (فنانس) اشفاق الرحمان نے ہفتے کو اسپتال کے دورے کے دوران غیر قانونی تعمیر کا نوٹس لیتے ہوئے کینٹین کو فوری طور پر گرانے کی ہدایت جاری کی۔
محکمے کی طرف سے ہدایات کے بعد ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) خالد خان نے پنجاب انفورسمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کے ضلعی انچارج نعمان قیصر سے غیر قانونی کینٹین کے خاتمے کے لیے رابطہ کیا۔
واضح رہے کہ مسافر خانہ کے قریب ایک عارضی دکان گزشتہ کئی برسوں سے موجود تھی۔ سابق ایم ایس ذوالفقار حیدر نے زبانی طور پر مذکورہ ٹھیکیدار عثمان خالد کو اس مقام پر ایک زیادہ صاف ستھرا مستقل ڈھانچہ بنانے کی اجازت دی تھی، تاہم اس حوالے سے کوئی تحریری منظوری جاری نہیں کی گئی۔ ٹھیکیدار نے مسافر خانہ کے ساتھ فائبر گلاس کی چھت والا مستقل اسٹرکچر قائم کر دیا۔
تاہم اسپتال انتظامیہ اور آنے والے افراد کی جانب سے اس تعمیر پر اعتراض کیا گیا اور اسے عوامی جگہ پر تجاوزات قرار دیا گیا۔
ساہیوال ٹیچنگ اسپتال کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محمد اختر نے غیر مجاز کینٹین کی تعمیر کے ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے ڈاکٹر شاہد ندیم کی سربراہی میں دو رکنی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔
ذرائع کے مطابق اسپتال کی جنرل کینٹین، جس میں ڈاکٹروں کی کینٹین بھی شامل ہے، کا ٹھیکہ رواں مالی سال کے دوران نجی ٹھیکیدار عثمان خالد کو ایک کروڑ 45 لاکھ روپے میں دیا گیا تھا۔