ساہیوال: شوہر اور سسرالیوں کے تشدد سے زخمی ہونے والی خاتون اسپتال میں دم توڑ گئی

ساہیوال: تھانہ یوسف والا کے علاقے میں شوہر اور دیوروں کے مبینہ وحشیانہ تشدد اور 36 گھنٹے تک کمرے میں محبوس رکھے جانے کے نتیجے میں زخمی ہونے والی خاتون، ساہیوال ٹیچنگ اسپتال میں دو روز زندگی و موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد انتقال کر گئی۔

پولیس نے مقتولہ کے شوہر اور ایک بھائی کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ ایک ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

واقعے کی تفصیلات

پولیس رپورٹ کے مطابق، چک 68 فائیو ایل کی رہائشی نسیم بی بی کی شادی پانچ سال قبل عباس نامی شخص سے ہوئی تھی۔ عباس کے دو بھائی فرہاد اور حنیف بھی اسی گھر میں رہتے تھے. جوڑے کے درمیان گھریلو ناچاقی چلی آ رہی تھی۔ 23 جنوری کی رات ایک تنازع پر عباس اور اس کے دو بھائیوں، فرہاد اور حنیف نے مل کر نسیم بیبی کو ڈنڈوں اور کلہاڑیوں کے وار سے شدید زخمی کر دیا۔

تشدد کے بعد ملزمان نے زخمی خاتون کو 36 گھنٹے تک ڈیرے کے ایک کمرے میں بند کر دیا تاکہ وہ کسی سے مدد نہ مانگ سکے۔

ریسکیو اور وفات

عینی شاہدین اور پولیس کے مطابق، 25 جنوری کی دوپہر کو نسیم بی بی نے کسی طرح اپنے بھائی محمد عباس سے رابطہ کیا، جس نے فوری موقع پر پہنچ کر اسے بازیاب کروایا اور پولیس کو اطلاع دی۔ خاتون کو تشویشناک حالت میں ساہیوال ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے پیر کی شام جاں بحق ہو گئی۔

قانونی کارروائی

یوسف والا پولیس نے مقتولہ کے بھائی کی مدعیت میں تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات بشمول:

دفعہ 302 (قتلِ عمد)
دفعہ 342 (حبسِ بے جا)
دفعہ 354 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم عباس اور اس کے بھائی فرہاد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ تیسرے ملزم حنیف کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔