ساہیوال: جائیداد کی خرید و فروخت کے لیے ‘گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ’ لازمی قرار، روایتی ‘فرد’ کا خاتمہ

​ساہیوال: پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی اور بورڈ آف ریونیو حکومتِ پنجاب نے صوبے میں اراضی کے نظام کو جدید بنانے کی سمت میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ضلع ساہیوال میں جائیداد کی خرید و فروخت کے لیے "گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ” کو لازمی قرار دے دیا ہے۔

​اس نئے فیصلے کے تحت اب ساہیوال میں زمین کے لین دین کے لیے استعمال ہونے والی روایتی دستاویزات، بشمول فرد برائے بیع، کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اب جائیداد کی ملکیت کی منتقلی صرف اور صرف گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے ذریعے ہی ممکن ہوگی۔

​اہم نکات اور حکومتی وژن

​مرحلہ وار نفاذ: یہ نظام فی الحال ساہیوال سے شروع کیا جا رہا ہے جسے جلد ہی پنجاب کے دیگر اضلاع اور پھر پورے صوبے میں نافذ کیا جائے گا۔
​تحفظ اور شفافیت: اس اقدام کا بنیادی مقصد شہریوں کی جائیداد، حدود کا تحفظ اور زمینوں کی خرید و فروخت میں ہونے والے فراڈ اور جعلسازی کا جڑ سے خاتمہ ہے۔

ڈیجیٹل انقلاب: ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ سسٹم کے ذریعے زمینوں کے دیرینہ تنازعات میں کمی آئے گی اور شہریوں کو مضبوط قانونی تحفظ ملے گا۔

​”وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق، ہم ایک ایسا جدید اور شفاف نظام متعارف کروا رہے ہیں جہاں ملکیت اور قبضہ دونوں کی تصدیق یقینی ہوگی۔ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ اس سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔” اکرام الحق (ڈائریکٹر جنرل، پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی)

​سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا طریقہ کار

​شہری اپنی جائیداد کو محفوظ بنانے کے لیے درج ذیل مراحل کے ذریعے سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں:

​رجوع: اپنے قریبی اراضی ریکارڈ سنٹر تشریف لے جائیں۔
​جانچ و سروے: متعلقہ حکام کوائف کی جانچ اور زمین کا طبعی سروے کریں گے۔
​تصدیق: اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ (ADLR) کی حتمی تصدیق کے بعد سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔

​حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ دھوکہ دہی سے بچنے اور اپنی ملکیت کو قانونی طور پر محفوظ بنانے کے لیے جلد از جلد گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ حاصل کریں۔