پاکپتن: پی ٹی آئی کے حق میں ریلی نکالنے پر بچوں سمیت 37 نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج، چھاپے اورگرفتاریاں جاری

تھانہ صدر پولیس پاکپتن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلی نکالنے اور 8 فروری کے احتجاج کی کال پر متحرک ہونے کے الزام میں 22 نامزد سمیت 37 نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ تحصیل پاکپتن کے گاؤں 37 ایس پی میں پیش آیا، جہاں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور دیگر اسیر رہنماؤں کی رہائی کے مطالبے کے لیے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی تھی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پارٹی جھنڈے اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور وہ گاؤں کی گلیوں میں مارچ کر رہے تھے۔
پولیس کے الزامات اور تصادم
پولیس رپورٹ کے مطابق جب اہلکاروں نے ریلی کو روکنے کی کوشش کی تو مظاہرین اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی اور تصادم ہوا۔ حکام نے درج ذیل الزامات عائد کیے ہیں:
پنجاب حکومت کے خلاف نعرے بازی۔
پولیس اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی اور ہاتھا پائی۔
سرکاری گاڑی کو نقصان پہنچانا۔
ایک کانسٹیبل (سلیم) نے رپورٹ کی کہ اس دوران اس کا پرس بھی چوری ہو گیا۔
قانونی کارروائی اور ایف آئی آر
مدعی: سب انسپکٹر فلک شیر (سول لائن تھانہ)۔
دفعات: پی پی سی کی دفعات 382، 440، 341، 148، 149 اور ایم پی او آرڈیننس 1960 کی دفعہ 16 کے تحت مقدمہ درج۔
نامزد افراد: خضر حیات، فہد، فیصل، محمد عمران، محمد اقبال، عابد علی، محمد افضل، محمد وقار، انعام الرحمن، ابو عمار، خرم شہزاد، ابو ہریرہ، محمد اسماعیل، وقار، محمد احمد، ملک عرفان، ابراہیم، کالے خان، اور سرفراز سمیت 22 افراد نامزد ہیں جبکہ 15 نامعلوم افراد کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں بچوں کو بھی نامزد کیا گیا ہے. جن میں 13 سالہ ابو عمار اور 10سالہ ابو ہریرہ بھی شامل ہیں. پی ٹی آئی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے جھوٹ پر مبنی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ریلی پرامن تھی اور کار سرکار میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی گئی.
گرفتاریاں اور پکڑ دھکڑ
اندراج مقدمہ کے بعد پولیس کے چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے. تحریک انصاف ویسٹ پنجاب کی ڈپٹی کوآرڈینیٹر ایمان وحید کے شوہر، وحید کو پاکپتن میں ریلی نکالنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق تھانہ کلیانہ پولیس کے ایس ایچ او اور ڈی ایس پی صدر نے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے گھر میں داخل ہو کر وحید اور ان کے ایک رشتہ دار کو حراست میں لیا۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے دوران مبینہ طور پر گالم گلوچ اور تشدد بھی کیا گیا۔
تحریک انصاف کے رہنما الیاس وٹو نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت کرتا ہوں۔ ٹکٹ ہولڈر پی پی 190 مہر عبدالستار، زوہیب لکھوکا اور وحید سمیت جتنے بھی کارکن اور رہنما گرفتار کیے گئے ہیں ان کو فوری رہا کیا جائے.