چیچہ وطنی: 8 فروری کی ہڑتال سے قبل پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن، درجنوں کارکنان گرفتار

چیچہ وطنی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 8 فروری کو ملک گیر ‘شٹر ڈاؤن’ ہڑتال کی کال کے بعد چیچہ وطنی اورگردونواح میں پولیس نے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ شب پولیس کی بھاری نفری نے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر تحریک انصاف اور رائے گروپ کے متعدد رہنماؤں اور سرگرم کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
آدھی رات کو چھاپے اور گرفتاریاں
ذرائع کے مطابق پولیس نے رات کی تاریکی میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے۔ ان کارروائیوں کے دوران اب تک درجنوں افراد کو پابند سلاسل کیا جا چکا ہے۔ اہم گرفتاریوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
علاقہ / تھانہ ، گرفتار رہنما و کارکن
تھانہ صدر: (چک 34/12-L) میر کاشف (صاحبزادہ سابق ناظم میر رضاء الدین مرحوم) ، چک 109/12-L ، شیر افگن، اے ڈی وسیم اور اسامہ ابرار
تھانہ سٹی: وحید احمد (کے ٹو) اور راؤ کلیم اللہ
تھانہ شاہکوٹ: ڈاکٹر رانا ماجد خاں اور ساجد عمران وڑائچ (81/12-L) |
تھانہ اوکانوالہ بنگلہ: شوکت وڑائچ
تھانہ کسووال: میاں سرور آرائیں اور چوہدری غلام عباس کے بھائی (13/14-L)
اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے اسٹیج سیکرٹری اور سرگرم رہنما سید میر رمیز اور متحرک کارکن طارق عرف مانا سمیت کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کو بھی حراست میں لیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
سابق نائب ناظم اور نائب صدر پاکستان تحریک انصاف ضلع ساہیوال چوہدری محمد زاہد گجر 173 نو ایل اور راجہ توصیف ظفر نمبر دار 21 گیارہ ایل کے گھر اور ڈیرے پر پولیس نے بھاری نفری کے ساتھ ریڈ کیا۔
انٹرنیٹ کی بندش اور عوامی مشکلات
کریک ڈاؤن کے ساتھ ساتھ چیچہ وطنی شہر اور گردونواح میں موبائل انٹرنیٹ سروس کی شدید لوڈ شیڈنگ (بندش) بھی جاری ہے۔ انٹرنیٹ کی معطلی کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ کاروباری طبقہ اور طلباء رابطوں کے منقطع ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں۔
مقامی قیادت کا موقف:
پی ٹی آئی کے مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں پرامن احتجاج کو روکنے کی کوشش ہیں، تاہم کارکنوں کے حوصلے بلند ہیں۔