ساہیوال: شادی کی تقریب میں فحش مجرہ، پولیس کا چھاپہ، 4 افراد گرفتار، 20 کے خلاف مقدمہ درج

ساہیوال (بیورو رپورٹ) ساہیوال کے نواحی علاقے چک 82 چھ آر میں شادی کی تقریب اس وقت میدانِ جنگ بن گئی جب پولیس نے غیر قانونی مجرے اور فحش ریکارڈنگ پر چھاپہ مارا، جس کے نتیجے میں تین منچلے نوجوانوں اور ایک ڈانسر خاتون کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ متعدد افراد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
واقعہ کی تفصیلات
تفصیلات کے مطابق چک 82 چھ آر میں ایک شادی کی تقریب جاری تھی جہاں تمام اخلاقی حدود پامال کرتے ہوئے لاؤڈ سپیکر پر فحش ریکارڈنگ لگائی گئی تھی اور نیم برہنہ لباس میں ملبوس خواتین ڈانسرز مجرہ کر رہی تھیں۔ اطلاع ملنے پر جب پولیس ٹیم موقع پر پہنچی تو منظر نامہ کچھ یوں تھا:
* غیر قانونی اسٹیج: ملزمان نے سڑک بند کر کے، لائٹس لگا کر باقاعدہ اسٹیج سجا رکھا تھا۔
* پھولوں کی جگہ نوٹوں کی بارش: منچلے نوجوان ڈانسرز پر نوٹ نچھاور کر رہے تھے۔
* پولیس سے مزاحمت: چھاپے کے دوران ملزمان نے پولیس ٹیم کے ساتھ ہنگامہ آرائی کی اور سرکاری کام میں مداخلت کرتے ہوئے مزاحمت دکھائی، جس پر پولیس کی اضافی نفری طلب کرنی پڑی۔
گرفتاریاں اور برآمدگی
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے موقع سے درج ذیل افراد کو حراست میں لے لیا:
* سلیم خالق (نوجوان)
* سلیم مجید (نوجوان)
* محمد ذیشان (نوجوان)
* عائشہ عامر (ڈانسر – لیڈی پولیس کے ذریعے گرفتار)
پولیس نے موقع سے نچھاور کیے گئے 32 ہزار روپے کی نقدی بھی برآمد کر لی ہے۔ تاہم، محمد اسلم، محمد اشرف، ندیم سمیت 10 نامزد افراد اور 3 دیگر ڈانسرز اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
قانونی کارروائی
تھانہ فتح شیر پولیس نے سب انسپکٹر خالق ریاض کی مدعیت میں مجموعی طور پر 20 افراد کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقدمے میں درج ذیل ایکٹ شامل کیے گئے ہیں:
* تعزیراتِ پاکستان: دفعات 148, 149 (بلوہ)، 186 (سرکاری کام میں مداخلت)، 353 (پولیس پر حملہ)۔
* ساؤنڈ سسٹم ایکٹ: دفعہ 6۔
* میرج ایکٹ: دفعہ 3۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔