پاکپتن: پالتو کتے کے حملے میں چھ سالہ بچہ شدید زخمی، مالک کے خلاف مقدمہ درج

ساہیوال: کتے کے کاٹنے کا ایک اور افسوسناک واقعہ؛ پاکپتن کی تحصیل کے گاؤں ٹبہ نانک سر میں ایک پالتو کتے نے 6 سالہ بچے کو حملہ کر کے شدید زخمی کر دیا۔

واقعے کی تفصیلات:

ریسکیو 1122 اور پولیس حکام کے مطابق، یہ واقعہ جمعرات کی سہ پہر اس وقت پیش آیا جب علی حسنین گلی میں کھیل رہا تھا۔ اس دوران گاؤں 37 ایس پی کے رہائشی اختر نامی شخص کے پالتو کتے نے بچے پر اچانک حملہ کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق کتے نے بچے کے بائیں کان اور چہرے پر بری طرح کاٹا۔

اہلِ علاقہ کی مداخلت:

بچے کی چیخ و پکار سن کر پڑوسی فوراً جائے وقوعہ پر پہنچے اور کتے کو ڈنڈوں اور پتھروں سے مار کر بچے کو اس کے چنگل سے چھڑایا۔ ریسکیو 1122 کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر زخمی بچے کو فوری طبی امداد کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاکپتن منتقل کیا۔

انتظامیہ کا ایکشن:

ڈپٹی کمشنر پاکپتن آصف رضا نے اتوار کے روز واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ اکتوبر 2025 سے کتوں کی تلفی کے لیے بڑے پیمانے پر مہم چلا رہی ہے۔

قانونی کارروائی:

پاکپتن صدر پولیس نے یونین کونسل نمبر 21 کے سیکرٹری محمد اصغر کی مدعیت میں کتے کے مالک اختر کے خلاف PPC کی دفعہ 289 کے تحت ایف آئی آر نمبر 599/26 درج کر لی ہے۔

واضح رہے کہ کچھ روز قبل ہڑپہ میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آ چکا ہے۔ خطرناک کتوں کو رہائشی گھروں میں پالنے کا رجحان ختم کرنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے سخت کریک ڈاؤن ضروری ہے۔ لیکن ساہیوال ایڈمنسٹریشن اس معاملے میں زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کر رہی۔