ملکہ ہانس: خاندانی تنازع پر چھوٹے بھائی نے بڑے بھائی کو قتل کر دیا

پاکپتن (نامہ نگار) پاکپتن تحصیل کے علاقے ملکہ ہانس کے محلہ مہر شاہ میں خاندانی دشمنی نے ایک ہولناک رخ اختیار کر لیا، جہاں چھوٹے بھائی نے معمولی جھگڑے پر اپنے بڑے بھائی کو بے رحمی سے قتل کر دیا۔

​واقعے کا پس منظر

​تفصیلات کے مطابق محمد ظفر اپنے دو بھائیوں کے ساتھ مشترکہ خاندانی نظام میں مقیم تھا۔ ظفر کی شادی کشور نامی خاتون سے ہوئی تھی، جبکہ وٹے سٹے کی رسم کے تحت ظفر کی بہن ساجدہ کی شادی کشور کے بھائی عامر سہیل سے ہوئی تھی۔ تین سال قبل عامر نے ساجدہ کو طلاق دے دی تھی، جس کے بعد وہ اپنے بھائیوں کے گھر واپس آگئی تھی۔

​اس واقعے کے بعد ظفر کا چھوٹا بھائی، ارشد، مسلسل ظفر پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ بدلے میں اپنی بیوی کشور کو طلاق دے دے۔ تاہم، ظفر نے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ اس کا اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہی اختلاف گھر میں مستقل جھگڑے کی بنیاد بن گیا۔

قتل کی واردات

​گزشتہ ہفتے کے روز جب کشور کے والد اپنی بیٹی اور نواسے نواسیوں سے ملنے ظفر کے گھر آئے، تو ارشد نے مشتعل ہو کر مطالبہ کیا کہ اس کے سسر فوری طور پر گھر سے چلے جائیں۔ ظفر اور اس کی بیوی کی جانب سے مزاحمت پر تلخ کلامی بڑھی جو دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھا پائی میں بدل گئی۔

​ارشد نے غصے میں آکر لوہے کے کنڈے (Hook) سے ظفر کے پیٹ اور سینے پر وار کیے۔ ​چھوٹے بھائی انصر اور سسر کی کوششوں کے باوجود ارشد باز نہ آیا اور ظفر کو شدید زخمی کرنے کے بعد موقع سے فرار ہو گیا۔

پولیس کارروائی

​زخمی ظفر کو فوری طور پر نجی گاڑی میں ڈی ایچ کیو ہسپتال پاکپتن منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ پولیس نے مقتول کی بیوہ کشور کی مدعیت میں ارشد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔