کمشنر ساہیوال ڈویژن کی کسان اتحاد کے وفد سے ملاقات، مسائل کے حل کی یقین دہانی

ساہیوال – کمشنر ساہیوال ڈویژن ڈاکٹر آصف طفیل سے کسان اتحاد کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی، جس میں زراعت سے وابستہ افراد کو درپیش مشکلات اور ان کے حل کے لیے حکومتی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران کسان اتحاد کے نمائندوں نے کمشنر کو بنیادی مسائل سے آگاہ کیا، جن میں شامل ہیں:

مارکیٹ میں کھاد کی دستیابی اور قیمتیں۔
اعلیٰ معیار کے بیج تک رسائی۔
فصلوں کے لیے آبپاشی کے پانی کی منصفانہ فراہمی۔

کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے حکومتی عزم

کمشنر ڈاکٹر آصف طفیل نے وفد کی باتیں تحمل سے سنیں اور کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا ویژن کسان کو خوشحال بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کھاد، بیج اور پانی کی بروقت فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔

"حکومتِ پنجاب کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے صرف وعدے نہیں بلکہ عملی اقدامات کر رہی ہے۔ زرعی شعبے کی ترقی ہی ملک کی معاشی ترقی کی ضمانت ہے،” ڈاکٹر آصف طفیل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔

درآمد و برآمد کی جامع پالیسی

کمشنر نے کسانوں کو خوشخبری سناتے ہوئے بتایا کہ حکومتِ پاکستان زرعی اجناس کی امپورٹ اور ایکسپورٹ کے حوالے سے ایک جامع لائحہ عمل تیار کر رہی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد کسانوں کو ان کی محنت کا براہِ راست صلہ دلوانا اور زرعی شعبے کو بین الاقوامی معیار کے مطابق مستحکم کرنا ہے۔

ترجیحی بنیادوں پر حل کی یقین دہانی

ملاقات کے اختتام پر کمشنر ساہیوال نے کسان اتحاد کو یقین دلایا کہ:

کسانوں کے تمام جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔
ضلعی انتظامیہ اور محکمہ زراعت کسانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
کھاد کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اس موقع پر محکمہ زراعت ساہیوال کے افسران بھی موجود تھے، جنہیں کمشنر نے کسانوں سے مسلسل رابطے میں رہنے اور ان کے مسائل فیلڈ کی سطح پر حل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔