ساہیوال: کپاس کی اگیتی کاشت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ’میگا کسان اجتماع‘ کا انعقاد

ساہیوال (نامہ نگار) تحصیل ساہیوال کے گاؤں 130/9-L میں کپاس کی اگیتی کاشت کے موضوع پر ایک پروقار اور بڑے پیمانے پرکسان اجتماع منعقد کیا گیا، جس میں علاقے کے ترقی پسند کاشتکاروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس پروگرام کا مقصد کاشتکاروں کو کپاس کی بہتر پیداوار اور جدید زرعی تکنیکوں سے روشناس کروانا تھا۔
پروگرام کی صدارت اور مہمانِ خصوصی
پروگرام میں ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹینشن (آئی پی ایم) پنجاب ڈاکٹر محمد زاہد نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت ڈاکٹر محمد اسلم نے معزز مہمانوں اور کسانوں کا استقبال کیا اور اجتماع کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کپاس کی اگیتی کاشت اور انٹیگریٹڈ پیسٹ مینجمنٹ کو اپنا کر ہی ہم پیداواری لاگت میں کمی اور منافع میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
جدید پیداواری ٹیکنالوجی پر تکنیکی لیکچر
ایگریکلچر آفیسر ایکسٹینشن (کمیر) عبدالقیوم نے کپاس کی کاشت پر تفصیلی تکنیکی لیکچر دیا۔ انہوں نے کاشتکاروں کو درج ذیل اہم نکات پر بریفنگ دی:
زمین کی تیاری اور سفارش کردہ اقسام کا چناؤ۔
بیج کی صحیح مقدار اور کاشت کا بہترین وقت۔
متوازن کھادوں کا استعمال اور آبپاشی کا شیڈول۔
اگیتی کاشت کے فوائد اور نقصاندہ کیڑوں سے بچاؤ کی حکمت عملی۔
حیاتیاتی تدارک پر زور
ایگریکلچر آفیسر بایولوجیکل کنٹرول لیبارٹری ساہیوال، محترمہ ماریہ تحسین نے فصلوں کے دوست کیڑوں کی اہمیت پر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ:
کیمیائی زہروں کے بے جا استعمال سے بچنے کے لیے حیاتیاتی طریقہ کار بہترین ہے۔
بایولوجیکل لیبارٹری میں تیار کردہ بایو کارڈز کسانوں کو بالکل مفت فراہم کیے جا رہے ہیں۔
یہ کارڈز فصلوں کے دشمن کیڑوں کے خلاف قدرتی ہتھیار ثابت ہوتے ہیں۔
عملی مظاہرہ اور کسانوں کو ہدایات
پروگرام کے اختتام پر مہمانِ خصوصی ڈاکٹر محمد زاہد نے کسانوں کو مختلف مفید اور دوست کیڑوں کا عملی مظاہرہ دکھایا۔ انہوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ روایتی طریقوں کے بجائے آئی پی ایم کے اصولوں پر عمل کریں تاکہ نہ صرف کپاس کی فصل محفوظ رہے بلکہ ماحول بھی آلودگی سے بچ سکے۔