محکمہ زراعت کے زیر اہتمام جناح ہال ساہیوال میں "زیادہ گندم اگاؤ مہم” سیمینار

ڈپٹی کمشنر ساہیوال شاہد محمود نے کہا ہے کہ گندم نہ صرف پاکستان کی بنیادی غذائی فصل ہے بلکہ یہ ہماری فوڈ سیکیورٹی کی ضمانت بھی ہے۔ حکومت پنجاب گندم کی پیداوار بڑھانے کے لیے کسانوں کو بیج اور کھاد پر خصوصی سبسڈی فراہم کر رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ رقبے پر گندم کی کاشت کو یقینی بنایا جا سکے۔

وہ جناح ہال ساہیوال آرٹس کونسل میں محکمہ زراعت کے زیر اہتمام "زیادہ گندم اگاؤ مہم” اور سموگ کنٹرول کے حوالے سے منعقدہ نمبرداران کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔

تقریب میں ڈائریکٹر زراعت چوہدری شہباز اختر، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہر جاوید، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد اسلم، زراعت آفیسر احمد سعد، ریونیو سٹاف اور ساہیوال کے تمام چکوک کے نمبرداران نے شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر نے نمبرداروں کو حکومتی زمینوں پر گندم کی کاشت کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے گندم کا ریٹ 3500 روپے فی من مقرر کیا ہے تاکہ کسانوں کو بہتر معاوضہ مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ نمبردار ضلعی انتظامیہ کی آنکھ، کان اور بازو ہیں جو حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے سموگ کنٹرول کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دھان کی باقیات کو آگ لگانا غیر قانونی اور ماحول دشمن عمل ہے۔

اس سے نہ صرف فضا آلودہ ہوتی ہے بلکہ زمین کی زرخیزی کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ڈائریکٹر زراعت چوہدری شہباز اختر نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر جلد گندم کے کاشتکاروں کے لیے ڈی اے پی کھاد پر سبسڈی کا اعلان کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کسانوں کی خوشحالی کے لئے متعدد پروگرام شروع کئے گئے جن میں کسان کارڈ، سبسڈی پر گرین ٹریکٹرز، سپریڈرز اور دیگر زرعی آلات کی فراہمی شامل ہے۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت ڈاکٹر محمد اسلم نے کسانوں پر زور دیا کہ دھان کی کٹائی کے بعد سپرسیڈر کا استعمال کریں تاکہ باقیات کو زمین میں شامل کر کے گندم کی فصل کا آغاز کیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں گندم تقریباً 2 کروڑ 25 لاکھ ایکڑ جبکہ پنجاب میں 1 کروڑ 74 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر کاشت کی جاتی ہے، اور جدید ٹیکنالوجی و معیاری بیج کے استعمال سے فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔