ساہیوال: 28 ہاؤسنگ اسکیمیں غیر قانونی قرار، خرید و فروخت پر پابندی عائد

ساہیوال: کمشنر ساہیوال ڈاکٹر آصف طفیل کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ نے ایک بڑا کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ضلع کی 28 ہاؤسنگ اسکیموں کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے اور شہریوں کو ان میں پلاٹوں کی خرید و فروخت سے روک دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر سمیع اللہ فاروق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تمام 28 ہاؤسنگ اسکیمیں ساہیوال ضلع کونسل کی حدود میں آتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے بیشتر نجی اسکیمیں 2015 سے 2025 کے درمیان شروع کی گئیں، لیکن ان میں ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہے۔
قانونی ضوابط اور خلاف ورزی
ڈپٹی کمشنر کے مطابق کسی بھی ہاؤسنگ اسکیم کو قانونی حیثیت حاصل کرنے کے لیے کم از کم 20 فیصد ترقیاتی کام مکمل کرنا لازمی ہوتا ہے، جبکہ ان میں سے اکثر اسکیموں میں کام کی شرح اس سے بھی کم ہے۔
صرف ایک ہاؤسنگ اسکیم ایسی ہے جس نے 90 فیصد کام مکمل کیا ہے۔ ان اسکیموں کے پاس لازمی این او سی (NOC) اور دیگر قانونی دستاویزات موجود نہیں ہیں۔
تحصیل وار غیر قانونی اسکیموں کی فہرست
مجموعی طور پر 15 اسکیمیں تحصیل ساہیوال اور 13 تحصیل چیچہ وطنی میں واقع ہیں۔
1. تحصیل ساہیوال کی غیر قانونی اسکیمیں:
عظیم سٹی (نئی والا روڈ)
خیابانِ صدر (چک نمبر 56/5-L)
ڈریم لینڈ (عارف والا روڈ)
رحمت بلاک (چک نمبر 138/9-L)
المدینہ بلاک (پاکپتن روڈ)
علی گارڈن (عارف والا روڈ)
ڈریم گارڈنز (چک نمبر 58/G.D)
الحرم ولاز (چک نمبر 125/9-L)
الرحمان سٹی بنگلو (گوگیرہ روڈ)
ٹاپ سٹی (مین نور شاہ روڈ)
مرینا فارمز (چک نمبر 107/9-L)
الشکور بلاک (چک نمبر 138/9-L)
خاور بلاک (پاکپتن روڈ)
سپر سٹی فیز 2 (چک نمبر 133/9-L)
عائشہ سٹی (نئی والا بنگلہ)
2. تحصیل چیچہ وطنی کی غیر قانونی اسکیمیں:
عبداللہ بلاک (چک نمبر 3/14-L)
اشرف بلاک (چک نمبر 109/12-L)
بلال گارڈن (چک نمبر 109/12-L)
ڈریم لینڈ (چک نمبر 111/7-R)
ہادی ٹاؤن (چک نمبر 109/12-L)
آئرس سٹی (اڈا کھوئی والا)
سبحانی گارڈن (چک نمبر 7/14-L)
لسانی ٹاؤن (چک نمبر 8/14-L، کسووال)
رحمان ٹاؤن (چک نمبر 1A/14-L، کسووال)
شاہد ٹاؤن (چک نمبر 40/12-L)
زاہد بلاک (چک نمبر 113/12-L)
منظور گارڈن (چک نمبر 118/12-L، کسووال)
احد بلاک (چک نمبر 108/7-R)
انتظامیہ کا موقف
ڈسٹرکٹ پلاننگ آفیسر جاوید انور گوندل کا کہنا ہے کہ گزشتہ 5 سے 6 ماہ کے دوران ان ہاؤسنگ اسکیموں کے مالکان کو متعدد نوٹسز جاری کیے گئے تھے، لیکن قانونی تقاضے پورے نہ کرنے پر اب ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ انتظامیہ نے عوام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنی جمع پونجی بچانے کے لیے ان غیر قانونی اسکیموں میں سرمایہ کاری سے گریز کریں۔