ساہیوال: ہنی ٹریپ کا شکار نوجوان الیکٹریشن فیصل آباد سے بازیاب، پولیس کا کامیاب آپریشن

ساہیوال (نمائندہ خصوصی) ساہیوال کے علاقے رحمان ٹاؤن 90 نو ایل سے اغوا ہونے والے 17 سالہ نوجوان الیکٹریشن مزمل حسین کو پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے فیصل آباد سے باحفاظت بازیاب کروا لیا۔ ملزمان نے نوجوان کو "ہننی ٹریپ” کے ذریعے اغوا کر کے 20 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔

اغوا کی واردات اور ہنی ٹریپ کا جال

تفصیلات کے مطابق رحمان ٹاؤن کے رہائشی طالب علم محمد حمزہ کے چھوٹے بھائی مزمل حسین کو 24 مارچ کی شام ایک نامعلوم خاتون کی کال موصول ہوئی۔ خاتون نے فریج کی مرمت کا بہانہ بنا کر مزمل کو بلایا اور اسے راغب کرنے کے لیے 5 ہزار روپے ایڈوانس بھی منتقل کیے۔

جب مزمل حسین شام 6 بجے اپنے اوزار لے کر کام کے لیے گیا تو گھات لگائے ملزمان نے اسے اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا اور اس کا موبائل فون بند کر دیا۔

20 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ

اغوا کے بعد مغوی کے بھائی محمد حمزہ کو مختلف نامعلوم نمبروں سے کمپیوٹرائزڈ پیغامات موصول ہوئے، جن میں جاز کیش کے دو اکاؤنٹس فراہم کیے گئے۔ اغوا کاروں نے دھمکی دی کہ:

"اگر 20 لاکھ روپے تاوان ادا نہ کیا گیا تو مزمل حسین کو قتل کر دیا جائے گا۔”

پولیس کی کارروائی اور بازیابی

تھانہ غلہ منڈی پولیس نے تین روز کی تاخیر کے بعد محمد حمزہ ابرار کی مدعیت میں دفعہ 365-A کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کیا۔ ڈی پی او ساہیوال کی ہدایت پر پولیس ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی اور موبائل لوکیشن کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگایا۔

پانچ روز بعد پولیس نے فیصل آباد میں ایک کامیاب چھاپہ مار کر مغوی مزمل حسین کو بازیاب کرا لیا اور موقع سے ملزمان کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔