ساہیوال: ہنی ٹریپ گینگ کے دو کارندے گرفتار، لاکھوں روپے کا بھتہ وصول کرنے کا انکشاف

ساہیوال: چک 66 جی ڈی کے مضافات میں ایک کمیشن ایجنٹ کو ‘ہنی ٹریپ’ کے ذریعے پھنسا کر 25 لاکھ روپے سے زائد رقم بٹورنے والے گینگ کے دو ارکان کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ تھانہ بہادر شاہ نے ایک سال کی تاخیر کے بعد مقدمہ درج کر کے کارروائی کا آغاز کیا۔

واقعے کی تفصیلات

متاثرہ شخص ظہور علی اور ملزم ندیم کا تعلق ایک ہی گاؤں سے ہے۔ تفصیلات کے مطابق:

جھانسا: ندیم نے اڈا بوٹی پال کے ایک پٹرول پمپ پر ظہور علی سے ملاقات کی اور اسے شادی کروانے کا جھانسہ دے کر اپنے جال میں پھنسایا۔
سازش: ملزم ظہور کو رشتہ دکھانے کے بہانے ایک گھر لے گیا جہاں اس کی ملاقات ایک لڑکی اور اس کے مبینہ بھائی سے کروائی گئی۔
ویڈیو بنانا: جب لڑکی ظہور کو علیحدگی میں ایک کمرے میں لے گئی تو اس نے نازیبا حرکات شروع کر دیں۔ اسی دوران ندیم، محمد یار اور اسد عباس عرف ننھے شاہ نے لڑکی کی برہنہ ویڈیو بنا لی اور ظہور پر بدکاری کا الزام لگا دیا۔

بھتہ اور دھمکیاں

ملزمان نے ظہور علی کو بلیک میل کرتے ہوئے موقع پر ہی اس کی جیب سے ایک لاکھ روپے نکال لیے اور مزید 24 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ ملزمان نے دھمکی دی کہ رقم نہ دینے کی صورت میں اسے اغوا کر کے بھاری تاوان وصول کیا جائے گا۔

متاثرہ شخص نے خوفزدہ ہو کر مختلف اقساط میں کل 24 لاکھ روپے ادا کیے، جن کی آخری قسط 29 اپریل 2025 کو دی گئی۔ اس دوران ملزمان نے زبردستی ظہور علی کو کچہری لے جا کر اس کی آبائی زرعی زمین کے شراکت داری کے کاغذات پر بھی دستخط کروا لیے۔

پولیس کارروائی، نظام عدل پر سوالیہ نشان

ابتدائی طور پر تھانہ بہادر شاہ نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد متاثرہ شخص نے آئی جی پنجاب (IGP) کو درخواست دی۔ آئی جی کے حکم پر اے ایس پی صدر سرکل نے مقدمہ درج کرنے کی ہدایت جاری کی۔

پولیس نے ایک سال کی تاخیر کے بعد چھ ملزمان (ندیم، اس کی اہلیہ ثمینہ، محمد یار، اسد عباس اور دو نامعلوم افراد) کے خلاف مقدمہ درج کر کے دو کو گرفتار کر لیا ہے۔ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔