چیچہ وطنی: خانہ بدوش گروپوں میں تصادم، نیشنل ہائی وے بلاک کرنے پر 27 افراد کے خلاف مقدمہ درج

چیچہ وطنی: ہڑپہ پولیس نے دو خانہ بدوش گروپوں کے درمیان ہونے والے پرتشدد تصادم کے بعد 27 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 11 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

واقعے کی تفصیلات

اتوار کی شب لاہور-ملتان نیشنل ہائی وے پر ‘داد فتیانہ’ کے قریب اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھنے والے خانہ بدوشوں کے بچوں کے درمیان لڑائی ہوئی۔ بچوں کے جھگڑے میں بڑے بھی شامل ہو گئے اور تلخ کلامی مسلح تصادم میں بدل گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق:

* دونوں گروپوں نے ایک دوسرے پر فائرنگ کی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
* خواتین نے بھی سڑک پر نکل کر ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھا پائی کی اور ٹریفک بلاک کر دی۔
* فائرنگ اور ہنگامہ آرائی کے باعث لاہور اور خانیوال سے آنے والی ٹریفک دونوں اطراف سے معطل ہو کر رہ گئی۔

پولیس کی کارروائی

ہڑپہ پولیس کے ایس ایچ او آصف سرور کے مطابق، تصادم میں کچھ لوگ معمولی زخمی بھی ہوئے، تاہم زخمیوں کو ریسکیو 1122 کے بجائے ان کے ساتھی خود ہی طبی امداد کے لیے لے گئے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین کو منتشر کیا اور تقریباً 30 منٹ میں ٹریفک بحال کروائی۔

قانونی کارروائی

سب انسپکٹر راحت نذیر کی مدعیت میں جبار، اسماعیل عرف پونی، ساجد، عمر، یونس اور جمیل سمیت 27 نامزد اور کئی نامعلوم افراد کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات اور پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق مرکزی ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں.