چیچہ وطنی: پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی مہنگی پڑ گئی، دولہا اور دوسری دلہن گرفتار

چیچہ وطنی – پہلی بیوی کی قانونی اجازت کے بغیر دوسری شادی رچانا ایک شہری کو بھاری پڑ گیا۔ نواحی گاؤں چک 14 گیارہ ایل میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دولہا اور اس کی دوسری دلہن کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
تھانہ صدر چیچہ وطنی نے پہلی بیوی، عابدہ بی بی، کی مدعیت میں شوہر اور اس کے ساتھیوں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔
واقعے کی تفصیلات اور پولیس ایکشن
پولیس رپورٹ کے مطابق، ملزم ارسلان مسیح نے اپنی پہلی بیوی کی رضامندی یا یونین کونسل سے قانونی اجازت نامہ حاصل کیے بغیر دوسری شادی کی۔ اس غیر قانونی اقدام پر پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے درج ذیل گرفتاریاں عمل میں لائیں:
ارسلان مسیح (دولہا)
انیتا جاوید (دوسری دلہن)
پولیس نے پہلی بیوی عابدہ کی درخواست پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 494 (پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی)، 148 اور 149 کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ نکاح کے گواہان کے خلاف بھی کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے۔
پاکستانی قانون اور دوسری شادی کے ضوابط
پاکستان میں مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت دوسری شادی کے لیے کچھ سخت شرائط موجود ہیں:
قانونی شرط: تفصیل
تحریری اجازت: شوہر کو مصالحتی کونسل سے تحریری اجازت لینا لازمی ہے۔
پہلی بیوی کی رضامندی: پہلی بیوی کا بیان اور اس کی رضامندی قانونی عمل کا حصہ ہے۔
سزا اور جرمانہ: خلاف ورزی کی صورت میں ایک سال تک قید اور بھاری جرمانہ ہو سکتا ہے۔
حق مہر کی ادائیگی: دوسری شادی کی صورت میں پہلی بیوی کا تمام مؤجل یا غیر مؤجل حق مہر فوری واجب الادا ہو جاتا ہے۔
اہم نوٹ: اگرچہ مذہبی طور پر نکاح کے شرائط الگ ہو سکتے ہیں، لیکن ملکی قانون کے تحت طریقہ کار پر عمل نہ کرنا ایک قابلِ دست اندازی پولیس جرم ہے۔