ساہیوال: ڈپٹی کمشنر کا گورنمنٹ گرلز کالج پر اچانک چھاپہ، حاضری رجسٹر قبضے میں لے لیا

ساہیوال (نیوز رپورٹر) ڈپٹی کمشنر ساہیوال نے گزشتہ روز صبح سویرےگورنمنٹ گرلز کالج کا اچانک دورہ کیا اور اساتذہ کی غیر موجودگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حاضری رجسٹر اپنے قبضے میں لے لیے۔ اس کارروائی کے بعد تعلیمی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے جبکہ پروفیسرز ایسوسی ایشن نے اسے اختیارات سے تجاوز قرار دیتے ہوئے صوبائی سطح پر احتجاج کی دھمکی دے دی ہے۔
واقعات کی تفصیلات
تفصیلات کے مطابق، ڈپٹی کمشنر ساہیوال گزشتہ روز صبح نو بجے سے قبل ہی پروفیسروں اور لیکچراروں کی حاضری چیک کرنے کے لیے پرنسپل آفس پہنچ گئے۔ معائنے کے دوران مبینہ طور پر کوئی بھی لیکچرار یا پروفیسر ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا۔
رجسٹر پر قبضہ: نو بجے کے بعد جب اساتذہ کی آمد شروع ہوئی اور انہوں نے حاضری لگانے کی کوشش کی، تو معلوم ہوا کہ ڈپٹی کمشنر رجسٹر پہلے ہی اپنے ساتھ لے جا چکے ہیں۔
تعلیمی سلسلہ: حاضری نہ لگنے کے باوجود اساتذہ نے کلاسوں کا رخ کیا اور پڑھائی کا سلسلہ شروع کر دیا۔
مزید معائنہ: گرلز کالج کے بعد ڈپٹی کمشنر نے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ساہیوال کا بھی دورہ کیا اور وہاں بھی حاضری چیک کی۔
انتظامیہ کی کوششیں اور ڈپٹی کمشنر کا رویہ
واقعے کے بعد ڈائریکٹر کالجز ساہیوال پروفیسر عندلیب اور پرنسپل گرلز کالج سمیرا، ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کے لیے ان کے دفتر پہنچیں تاکہ صورتحال پر بات چیت کی جا سکے اور رجسٹر واپس حاصل کیے جا سکیں، تاہم رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے ان سے ملاقات نہیں کی اور رجسٹر بھی واپس نہیں کیے۔
پروفیسرز ایسوسی ایشن کا شدید ردِ عمل
پنجاب لیکچررز اینڈ پروفیسرز ایسوسی ایشن (PPLA) نے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ایسوسی ایشن کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ:
"ڈپٹی کمشنر نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ اساتذہ کی تذلیل کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔”
ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر یہ رویہ برقرار رہا تو صوبہ بھر میں احتجاج اور ہڑتال کی کال دی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔