ساہیوال میں اغوا کی لہر: 48 گھنٹوں میں 7 لڑکیاں لاپتہ، پولیس نے مقدمات درج کر لیے

ساہیوال (بیورو رپورٹ): ضلع ساہیوال اور گردونواح میں گزشتہ دو دنوں کے دوران اغوا کے مختلف واقعات نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ مختلف علاقوں سے سات لڑکیاں لاپتہ ہو گئی ہیں، جن کے حوالے سے پولیس نے متعلقہ تھانوں میں مقدمات درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

مدرسے اور ٹیوشن سے واپسی پر اغوا کے واقعات

واقعہ 1: گاؤں 85/6-R میں 16 سالہ شمیلہ لاپتہ ہو گئی۔ اہل خانہ نے مقامی امام مسجد مولانا ارشد پر اغوا کا الزام عائد کیا ہے، کیونکہ لڑکی اور مولانا دونوں ہی مدرسے سے غائب پائے گئے۔
واقعہ 2: محلہ راجپورہ کی 16 سالہ لڑکی کو ٹیوشن سے گھر واپسی پر حیدر اور اس کے دو ساتھیوں نے مبینہ طور پر کار میں اغوا کر لیا۔
واقعہ 3: جناح ٹاؤن ہڑپہ میں دکاندار محمد اقبال کی بیٹی ایمان کو بھی ٹیوشن سے واپسی پر نامعلوم کار سوار اغوا کر کے لے گئے۔

ذاتی رنجش اور گھروں سے اغوا

واقعہ 4: گاؤں 57/5-L میں 13 سالہ عائشہ کو صبح سویرے گھر سے اغوا کیا گیا۔ مشتبہ شخص مجید عرف مجو پر الزام ہے کہ اس نے لڑکی کے والد سے ذاتی رنجش کا بدلہ لینے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔
واقعہ 5: گاؤں 93/12-L میں ثانیہ امام کو اس کے بہنوئی شبیر مغل نے ارسلان اور ایک نامعلوم شخص کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر اغوا کیا۔

چیچہ وطنی اور دیگر علاقوں کی صورتحال

واقعہ 6: چیچہ وطنی شہر کے چک نمبر 17 میں 17 سالہ نجمہ کو محمد منیر اور اس کے ساتھیوں نے کار میں اغوا کیا۔ اسی طرح حیات آباد میں کالج کی طالبہ رابعہ اکرم کو کالج سے واپسی پر اغوا کیا گیا۔
واقعہ 7: گاؤں 118/12-L میں شازیہ یوسف کو پرویز اور وقار نامی افراد نے مبینہ طور پر اغوا کیا۔ ملزمان لڑکی کے ساتھ ساتھ گھر سے 3 لاکھ روپے نقدی اور طلائی زیورات بھی لے اڑے۔

پولیس کارروائی

اہل خانہ کی شکایات پر پولیس نے فرید ٹاؤن، غلہ منڈی، یوسف والا، ہڑپہ، چیچہ وطنی سٹی، شاہکوٹ اور کسووال کے تھانوں میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 365-B کے تحت الگ الگ مقدمات درج کر لیے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مغوی لڑکیوں کی بازیابی اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔