وفاقی حکومت گریڈ 16 تک کے سرکاری ملازمین کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس فراہم کرے گی

اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ملک میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کے فروغ کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ گریڈ 16 تک کے سرکاری ملازمین کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس فراہم کی جائیں گی۔
بدھ کے روز اسلام آباد میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام کو اس اسکیم پر فوری عملدرآمد کے احکامات جاری کیے۔
ایندھن کی بچت اور ماحولیاتی تحفظ
وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا:
"موجودہ علاقائی صورتحال اور مستقبل کی ضروریات کے پیشِ نظر الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس سے نہ صرف ایندھن کی درآمد پر پڑنے والا بوجھ کم ہوگا بلکہ یہ ماحولیاتی تحفظ اور توانائی کی حفاظت میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔”
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ نیشنل ای وی پالیسی کے تحت کم آمدنی والے افراد کو الیکٹرک موٹر سائیکلوں پر دی جانے والی سبسڈی میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور اس عمل کو تیز کیا جائے۔
ای وی پالیسی کے اہم خدوخال
اجلاس میں شرکاء کو ملک بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری اور انفراسٹرکچر پر بریفنگ دی گئی، جس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹس: اب تک الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور رکشوں کے لیے 72، جبکہ الیکٹرک کاروں کے لیے 4 مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔
چارجنگ اسٹیشنز: ای وی چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کے لیے اب تک 123 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔
مستقبل کا ہدف: حکومت کا ہدف ہے کہ اگلے 5 سالوں میں ملک کی 30 فیصد گاڑیاں الیکٹرک پر منتقل کر دی جائیں۔
بڑی بچت: اس اقدام سے ملک کو سالانہ تقریباً 4.5 ارب ڈالر کے ایندھن کی بچت ہونے کا امکان ہے۔
اسلام آباد پولیس کے بیڑے میں ای وی کی شمولیت
الیکٹرک گاڑیوں کی ترویج کے سلسلے میں اسلام آباد کیپٹل پولیس پہلے ہی اپنے بیڑے میں 15 ماحول دوست الیکٹرک گاڑیاں شامل کر چکی ہے۔ وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ یہ گاڑیاں پیٹرول یا آئل کے بغیر مکمل طور پر بیٹری پر چلتی ہیں، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔
اجلاس کے شرکاء
اس اہم اجلاس میں وفاقی وزراء بشمول مصدق ملک، احسن اقبال، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارار، اویس لغاری، وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ حکومت کا یہ اقدام توانائی کی بچت کی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک کو جدید اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ سسٹم کی طرف راغب کرنا ہے۔