ڈاکٹر ریاض ہمدانی کی جانب سے کمشنر ساہیوال کو کتاب کا تحفہ

کمشنرساہیوال ڈویژن ڈاکٹر آصف طفیل نے کہا ہے کہ کتاب محض تحریر کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ یہ کسی بھی معاشرے کی فکری سمت، شعور اور علمی ترجیحات کی عکاس ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدید دور میں ایسے موضوعات پر سنجیدہ اور مربوط علمی کام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے جو انسان اور ٹیکنالوجی کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں مدد دے سکیں۔

انہوں نے پنجاب آرٹس کونسل ساہیوال ڈویژن کی اس علمی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ ساہیوال آرٹس کونسل اور ڈائریکٹر ڈاکٹر ریاض ہمدانی کی سرپرستی میں مرتب کی جانے والی کتاب “مصنوعی ذہانت: حریف یا حلیف؟” اس حوالے سے ایک اہم فکری دستاویز ہے، جس میں عصر حاضر کے نہایت حساس اور بامعنی سوال کو ادبی، ثقافتی اور فکری تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر آصف طفیل کا کہنا تھا کہ اس کتاب کی خاص اہمیت یہ ہے کہ اسے ڈاکٹر حنا جمشید نے نہایت محنت، فہم اور علمی دیانت کے ساتھ مرتب کیا ہے، جس کے باعث کانفرنس میں ہونے والے فکری مباحث ایک مربوط، بامقصد اور قابلِ حوالہ کتابی صورت میں محفوظ ہو گئے ہیں۔

یہ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارے اگر سنجیدہ فکری سرپرستی کریں تو علمی سرمایہ مستقل اثاثہ بن جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے یہ کتاب نہ صرف ادب اور ثقافت سے وابستہ افراد بلکہ طلبہ، محققین اور پالیسی سازوں کے لیے بھی یکساں طور پر مفید ہے، کیونکہ یہ جدید ٹیکنالوجی کو انسانی اقدار اور سماجی شعور کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے کی دعوت دیتی ہے۔

ڈاکٹر ریاض ہمدانی کی جانب سے کتاب پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پنجاب آرٹس کونسل ساہیوال ڈویژن آئندہ بھی علمی کانفرنسوں، فکری مکالموں اور ادبی سرگرمیوں کو محض وقتی سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں کتابی صورت میں محفوظ کرنے کی روایت کو آگے بڑھاتا رہے گا.