ساہیوال: شوہر اور سسرالیوں کی جانب سے تنخواہ نہ دینے پر لیڈی پولیس اہلکار پر تشدد

ساہیوال: ڈبلیو بلاک، اسکیم نمبر 3 میں ایک خاتون پولیس ہیڈ کانسٹیبل کو شوہر، سسر اور دیور کی جانب سے ماہانہ اخراجات میں تنخواہ شامل نہ کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

متاثرہ لیڈی پولیس اہلکار ثمر امجد کی درخواست پر تھانہ فرید ٹاؤن پولیس نے اس کے شوہر ذیشان علی، اس کے والد شوکت علی اور بھائی ارسلان علی کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 380، 506، 354 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق متاثرہ خاتون ثمر امجد ایک انٹیلی جنس بیسڈ سول ادارے میں ملازمت کرتی ہیں۔ ان کی شادی ذیشان علی سے ہوئی جو روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک مقیم تھا، جبکہ ثمر امجد ساہیوال میں اپنے سسرال کے ساتھ رہائش پذیر تھیں۔

چند ہفتے قبل ذیشان علی وطن واپس آیا تو اس کے والد اور بھائی نے ثمر امجد پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنی تنخواہ سے گھریلو اخراجات میں حصہ نہیں ڈال رہیں۔ اس معاملے پر ثمر امجد کے سسرال میں جھگڑا شدت اختیار کر گیا۔ جب ثمر امجد نے اپنی آمدن دینے سے انکار کیا تو شوہر، سسر اور دیور نے مبینہ طور پر انہیں قابو میں لے کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔

ملزمان نے مبینہ طور پر ثمر امجد کا اے ٹی ایم کارڈ اور الماری میں رکھے گئے سونے کے زیورات بھی نکال لیے۔ ابتدائی طور پر متاثرہ خاتون نے خاموشی اختیار کی، تاہم بعد ازاں پیر کے روز تھانہ فرید ٹاؤن میں باقاعدہ درخواست دائر کی جس پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ارسلان علی کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ذیشان علی اور شوکت علی تاحال مفرور ہیں، جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔