تھانہ صدر چیچہ وطنی کے خلاف خاتون کی پریس کانفرنس، ڈی پی او سے نوٹس لینے کا مطالبہ

چیچہ وطنی (چیچہ وطنی پریس کلب): تھانہ صدر چیچہ وطنی کی پولیس کے خلاف ایک بیوہ/طلاق یافتہ خاتون نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے پریس کلب میں احتجاجی پریس کانفرنس کی ہے۔ خاتون کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے تلاشی کے بہانے گھر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور نقدی و مویشی لوٹ لیے۔
واقعے کی تفصیلات
نواحی گاؤں 114/12-L کی رہائشی ممتاز بی بی نے پریس کلب چیچہ وطنی میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سرکل تھانہ صدر کی پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور تلاشی کے بہانے گھر کا قیمتی سامان درہم برہم کر دیا۔ خاتون کے مطابق، پولیس جاتے ہوئے گھر سے لاکھوں روپے کی نقدی، طلائی زیورات، تین گائیں، ایک بچھڑا (کل 5 مال مویشی) اور ایک موٹر سائیکل بھی ساتھ لے گئی۔
خاتون کا مؤقف
متاثرہ خاتون ممتاز بی بی نے بتایا:
> "میں ایک طلاق یافتہ عورت ہوں اور اپنے گھر میں الگ رہتی ہوں۔ میرا بھائی محمد زید پولیس کی حراست میں ہے، لیکن میرا اس سے کوئی تعلق یا بول چال نہیں ہے۔ پولیس نے محض بھائی کی بنیاد پر میرے گھر پر ریڈ کیا اور میرا جمع پونجی اور روزگار کا واحد ذریعہ (مویشی) چھین لیا۔”
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اس سے قبل بھی پولیس ایسی کارروائی کر چکی ہے، تاہم پچھلی بار ڈی پی او کے حکم پر مال مویشی واپس کر دیے گئے تھے، مگر اب دوبارہ وہی عمل دہرایا گیا ہے۔
پولیس کا مؤقف
اس معاملے پر جب ایس ایچ او تھانہ صدر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے خاتون کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ زیرِ حراست ملزم محمد زید مویشی چوری کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم تھانہ کسووال میں درج دو مقدمات میں اشتہاری بھی ہے اور کارروائی قانون کے مطابق کی جا رہی ہے۔
مطالبہ
متاثرہ خاتون نے ڈی پی او ساہیوال سے اپیل کی ہے کہ اس مبینہ پولیس گردی کا فوری نوٹس لیا جائے، ان کا لٹا ہوا سامان اور مویشی واپس کروائے جائیں اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔