ساہیوال: بینک افسر 1 کروڑ 82 لاکھ روپے کے فراڈ میں ملوث نکلا، درجنوں کھاتہ دار جمع پونجی سے محروم

ساہیوال: نور شاہ برانچ کے ایک نجی بینک میں کروڑوں روپے کے مالی غبن کا انکشاف ہوا ہے، جہاں بینک افسر نے مبینہ طور پر 18.2 ملین (ایک کروڑ 82 لاکھ) روپے کا فراڈ کر کے متعدد کھاتہ داروں کو کنگال کر دیا۔
فراڈ کا طریقہ کار اور انکشاف
رپورٹس کے مطابق، بینک افسر خاور شہزاد برانچ کے اندر ایک متوازی بینکنگ سسٹم چلا رہا تھا۔ وہ ڈھائی سال قبل نور شاہ برانچ میں پرسنل آفیسر کے طور پر تعینات ہوا تھا۔ اس نے گاہکوں سے ذاتی تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے اکاؤنٹس کا غلط استعمال شروع کیا۔
فراڈ کا انکشاف اس وقت ہوا جب کلثوم بی بی نامی خاتون اپنے آبائی مکان کی فروخت سے حاصل ہونے والی 15 لاکھ روپے کی رقم نکلوانے پہنچیں، تو معلوم ہوا کہ رقم پہلے ہی نکالی جا چکی ہے۔ اسی طرح ایک بیوہ، رانی بی بی کے اکاؤنٹ میں بھی خرد برد کی گئی۔ ملزم نے رانی بی بی کے اکاؤنٹ میں اپنا شناختی کارڈ نمبر درج کیا، رابطہ نمبر تبدیل کیا اور نیا اے ٹی ایم کارڈ جاری کروا کر رقم ہتھیا لی۔
انکوائری رپورٹ کی اہم تفصیلات
صارفین کی شکایات پر بینک کی صوبائی انتظامیہ نے سینئر افسر فیصل بٹ کو تحقیقاتی افسر مقرر کیا۔ انکوائری میں درج ذیل ہوشربا حقائق سامنے آئے:
جعلسازی: ملزم کھاتہ داروں کے جعلی دستخط اور انگوٹھے کے نشانات استعمال کر کے چیک کیش کرواتا تھا۔
اعتماد کا دھوکہ: وہ صارفین کو "مفت بینکنگ سروسز” فراہم کر کے ان کا اعتماد جیتتا تھا۔
نجی لین دین: ملزم مقامی دکانداروں (جیسے سجاد کمیانہ) کے ساتھ مل کر بینک واؤچرز کے بغیر غیر قانونی لین دین کرتا تھا۔
ریکارڈ میں تبدیلی: انکوائری کمیٹی نے پایا کہ فنگر پرنٹس میں تبدیلی، چیک بکس کا غلط استعمال اور کھاتہ داروں کی مرضی کے بغیر اکاؤنٹ بند کرنے جیسے اقدامات کیے گئے۔
برانچ منیجر کی مبینہ غفلت
تحقیقات میں برانچ منیجر منظور چوہان کا کردار بھی مشکوک پایا گیا ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے شکایات کو نظر انداز کیا اور ملزم کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اسے ریجنل آفس ساہیوال منتقل کر دیا تاکہ وہ کارروائی سے بچ سکے۔
ملزم کی فرار
بینک کی اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی نے فراڈ کے ٹھوس شواہد جمع کر لیے ہیں، تاہم اندرونی تحقیقات کے آخری مراحل میں ملزم خاور شہزاد روپوش ہو گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ کھاتہ داروں کی بڑی تعداد اب اپنی جمع پونجی کی واپسی کے لیے بینک حکام اور پولیس کی طرف دیکھ رہی ہے۔
نوٹ: صورتحال واضح کرنے کے لیے خبر کے ساتھ تصویر AI سے تیار کی گئی ہے۔