عارف والا: دن دیہاڑے میڈیکل سٹور پر فائرنگ، ایک شخص شدید زخمی، پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

عارف والا (نمائندہ خصوصی) – ضلع پاکپتن کی تحصیل عارف والا میں تھانہ صدر کی حدود فائرنگ اور لاقانونیت کے مرکز میں تبدیل ہو گئیں۔ مقدمہ درج کروانے کی پاداش میں مسلح ملزمان نے سرعام میڈیکل سٹور میں گھس کر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ایک شخص زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے۔
واقعے کی تفصیلات
ذرائع کے مطابق چک 149 ای بی کے رہائشی صغیر ولد اسماعیل ارائیں ایک مقامی میڈیکل سٹور پر موجود تھے کہ اچانک مسلح ملزمان نے دھاوا بول دیا۔ ملزمان نے "مقدمہ کیوں درج کروایا” کی تکرار کرتے ہوئے اندھادھند فائرنگ کر دی، جس سے صغیر اسماعیل شدید زخمی ہو گئے۔
زخمی کو فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال (THQ) عارف والا منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ابتدائی طبی امداد کے بعد ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال ریفر کر دیا گیا ہے۔
پولیس کی مبینہ غفلت اور "اندھیر نگری”
متاثرہ خاندان اور مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں اندھیر نگری چوپٹ راج قائم ہو چکا ہے۔ واقعے کے پس منظر میں درج ذیل حقائق سامنے آئے ہیں:
سابقہ دشمنی: ملزمان نے اس سے قبل بھی متاثرہ خاندان کے گھر پر فائرنگ کی تھی۔
پولیس کی سستی: پہلے واقعے کی اطلاع اور قانونی کارروائی کے باوجود پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔
خوف و ہراس: ملزمان کی گرفتاری نہ ہونے کی وجہ سے ان کے حوصلے بلند ہوئے اور انہوں نے دن دیہاڑے میڈیکل سٹور پر حملہ کر دیا۔
متاثرہ خاندان کی دہائی
چک 149 ای بی کی رہائشی مدعیہ نادیہ قاری نے حکام بالا سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
"ملزمان کھلے عام گھوم رہے ہیں اور ہمارے خاندان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ ہم نے پہلے بھی پولیس کو اطلاع دی تھی لیکن کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ ہماری وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے اپیل ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے۔”
اہل علاقہ نے بھی بڑھتی ہوئی لاقانونیت پر شدید احتجاج کیا ہے اور پولیس کے اعلیٰ افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور ملزمان کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جائے۔